PDF readable book
Shoaib Nasir Novel زرتاج گل pdf, you can download and read it directly.


















میرے حالیہ دورہ امریکہ کینیڈا میں متعدد شاعروں اور ادیبوں سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا کنیڈا کے شہر ٹورنٹو میں ایسے ہی ایک ادیب ناول نگار اور صحافی دوست شعیب ناصر صاحب سے ملاقات ہوئی جو کئ ملاقاتوں تک پھیل گئی اور پھر دوستی میں بدل گئی وہ ان کی شخصیت کا کرشمہ تھا ان کی محبت تھی یا پھر ان کی ادب نوازی تھی کہ میرے خانہ دل میں مقیم ہو گئے جس دن میری واپسی تھی وہ پورا دن تقریبا ان کے ساتھ ہی گزرا اور ہم گھنٹوں ڈرائیونگ بھی کرتے رہے اور پھر ایک پاکستانی ریسٹورنٹ میں دیسی ماحول میں دیگر دوستوں کے ہمراہ ناشتہ بھی کیا اور اسی دن انہوں نے اپنا ایک ناول بھی مجھے پیش کیا جس کا نام زرتاج گل ہے اس دورے میں دیگر کافی دوستوں نے بھی اپنی کتابیں مجھے تحفتاً پیش کی تھیں لیکن سب سے پہلے میں نے یہ ناول پڑھا اور پڑھنے کے بعد احساس ہوا کہ حقیقی واقعات کی اپنی کشش اور خوبی ہوتی ہے جو قاری کو اپنے ساتھ بہا کر لے جاتی ہے۔ شعیب ناصر صاحب کا یہ ناول زرتاج گل بھی حقیقی کرداروں پر مشتمل ہے جو شعیب ناصر صاحب کی صحافیانہ زندگی کی کاوش ہے۔ یہ ناول جو 90 کی دہائی میں لکھا گیا تھا اسی کی دہائی میں افغانستان میں ہونے والی جنگ آزادی کے پس منظر کے ساتھ اور انہی کرداروں پر مشتمل ہے۔ مرکزی کردار زرتاج گل جو افغانستان کے شاہی خاندان کے ایک انتہائی امیر و کبیر فوجی افسر کی بیٹی ہے اور ناز و نعم میں پلی ہے حالانکہ اس کی تربیت اس طرح کی ہے کہ مذہب سے دور رکھی گئی۔ اس کی پڑھائی بھی ماسکو میں ہوتی ہے جہاں اسے کیمونزم کا سبق سکھایا جاتا ہے لیکن جسے اللہ اپنے راستے پر چلانا چاہے اسے کون روک سکتا ہے یہی زرتاج گل کے ساتھ ہوا اپنے آبائی دین اسلام کا اس کے اوپر ایسا اثر ہوا کہ وہ مجاہدین کے ساتھ آملی اور روسیوں کے خلاف جہاد میں اتنا اگے بڑھ گئی کہ روسی اور افغانی فوج اس کے در پے ہوگی اس کا باپ جو افغان فوج میں کرنل تھا وہ بھی بیٹی کو نہ بچا سکا بلکہ خود بھی مجاہدین سے آملا اور آخر دیگر اہل خانہ کے ساتھ شہید ہو گیا زرتاج گل بے یار و مدد گار ہو کر پاکستان آجاتی ہے اور پھر اس کے ساتھ وہ سلوک ہوتا ہے جو جو دشمن بھی اس کے ساتھ نہیں کر سکے اس ناول کی خاص بات اس کی شستہ زبان، سلاست، روانی، دلچسپ انداز تحریر اور پے در پے واقعات ہیں جو قاری کو باندھ کر رکھتے ہیں جب تک کہ وہ ناول ختم نہیں کر لیتا میرے ساتھ بھی یہی ہوا ۔ناول ختم کیا تو سکون ملا۔ اتنا اچھا ناول لکھنے پر میں اپنے دوست شعیب ناصر صاحب کو مبارکباد دیتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔
طارق مرزا
مصنف، کالم نگار، ادیب ، شاعر
8اکتوبر 2024

