Shoaib Nasir’s Urdu Shayari, Ghazal, Nazm and others.

دعا
پاک رکھنا مری آنکھوں کا خزینہ مولا
دیکھنا ہے انہی آنکھوں سے مدینہ مولا
اپنی رحمت سے بچائے ہوئے رکھنا اس کو
ڈوب جائے نہ کہیں میرا سفینہ مولا
ان کی خُشبوسے مری روح معطر رکھنا
جن کا عنبر سے بھی اعلیٰ ہے پسینہ مولا
ماہ رمضان کی برکات عطا کر مجھ کو
شہر طیبہ میں گزاروں وہ مہینہ مولا
آخرت میری سنور جائیگی ہے مجھ کو یقیں
اُن کی مسجد میں جو مل جائے شبینہ مولا
ذکر سرکار ُدو عالم ہی کرے گا ناصرؔ
تو مرے نطق کو دے دے جو قرینہ مولا
(شعیب ناصر)

دعا
تھاما ہے میں نے جو ترے محبوب کا علم
رکھنا کرم سے اپنے مری ذات کا بھرم
جب بھی میں کوئی کام کروں اے مرے خدا
اُٹھے تری رضا کے لئے میرا ہر قدم
رحمت سے تیری مجھ کو ملے ایسی کچھ عطا
مدحت ترے حبیبؐ کی کرتا رہوں رقم
محشر میں جب ہو سامنا آقاؐ کا اے کریم
کرنا گناہ گار کے احوال پر کرم
آنکھیں ہوں جب بھی بند مری اس جہان میں
ہو سامنے نظر کے مرے آپ کا حرم
جس میں ترے حبیب کے رہتے ہوں سب غلام
ناصرؔ کو رحمتوں سے عطا کرنا وہ ارم
( شعیب ناصر )

نعت
یہ بات سوچ کے ہم نے پڑاؤ ڈالا ہے
وہ ایک پیڑ گھنی چھاؤں رکھنے والا ہے
ہر ایک روح پہ سایہ فگن ہے آپ کی ذات
انہی کے نام سے دنیا میں اب اجالا ہے
نبی تو اور بھی دنیا میں آئے ہیں لیکن
مرے حضور کا رتبہ ہی سب سے اعلیٰ ہے
بلاوہ آئے کا اک بار پھر مدینہ سے
مجھے یقین ہے سب کچھ بدلنے والا ہے
یہ تُند آندھی مرا کیا بگاڑ سکتی ہے
دہر میں آقا مجھے آپ کا حوالہ ہے
زمانہ کیوں نہ محمد کا احترام کرے
یہ نام وہ ہے جو بگڑی بنانے والا ہے
میں خُود میں ٹوٹ گیا تھا بکھر گیا ہوتا
درود و نعت نے آقا مجھے سنبھالا ہے
سیاہ پوشئی کعبہ کا ہے سبب ناصرؔ
مرے حضور کی کملی کا رنگ کالا ہے
(شعیب ناصر)

غزل
وہ اگر لب کو ہلاتے ذرا زحمت کرکے
ہم بھی دکھلاتے انھیں دل سے محبت کرکے
کوئی بھی ساتھ نہیں صرف کرم ہے رب کا
میں نے منوایا ہے خود کو بڑی محنت کر کے
جن کی فطرت میں ہو ڈسنا وہ ڈسا کرتے ہیں
آزما لیں کسی کم ظرف کی عزت کرکے
میں تو خوش ہوں مجھے جنت میں جگہ تُم سے ملی
کیا ملا تم کو مرے دوستو غیبت کرکے
ہم کو سچ بول کے تنہائی ملی ہے ورنہ
ہم بھی پالیتے جگہ آپ کی مدحت کر کے
لوگ کہہ سکتے ہیں پر کچھ نہ کہے گا ناصرؔ
وہ تو ہے قید کسی ہاتھ پہ بیعت کر کے
(شعیب ناصر)

غزل
تمہاری یاد تُمہارا دھیان رکھتے ہیں
کڑی ہے دھوپ مگر سائبان رکھتے ہیں
خدا کرے کہ انھیں اذن گفتگو مل جائے
ترے دیوانے بھی منہ میں زبان رکھتے ہیں
ہوا سے کہہ دو سنبھل کر چلے ہماری طرف
ہم اہل عشق ارادے جوان رکھتے ہیں
امیر شہر ہو یا ہو فقیہہ شہر کوئی
ترے فقیر ہتھیلی پہ جان رکھتے ہیں
ہوا سے دشت طلب میں ہیں معرکہ آرا
وفا کے دیپ عجب آن بان رکھتے ہیں
تُم اپنے جال میں پھانسو گے کس طرح ناصؔر
پرند سارے ہی اونچی اڑان رکھتے ہیں”
(شعیب ناصر)

غزل
جو دیپ بجھنے لگے تھے انھیں جلا بھی گیا
ذرا سی دیر کو آیا تھا اور رلا بھی گیا
ترے بغیر بتا کیسے زندگی کرتے
ترے فراق میں جینے کا حوصلہ بھی گیا
گیا وہ شخص تو آنگن کی رونقیں بھی گئیں
کہ میرے گھر سے اجالوں کا قافلہ بھی گیا
نہ پھر گلاب ہی مہکے نہ چاندنی چھِٹکی
چھپا جو چاند تو خوابوں کا سلسلہ بھی گیا
کچھ اس طرح تری نسبت پہ آگیا ہے یقیں
کہ اب تو لب سے مرے حرف مدعا بھی گیا
کبھی نہ میرے تعاقب کا سلسلہ ٹوٹا
کہ میرے پیچھے سدا میرا نقشِ پا بھی گیا
میں خوش ہوں اپنی تباہی پہ اس لیے ناصرؔ
کہ جس نے مجھ کو بنایا تھا وہ مٹا بھی گیا
(شعیب ناصر)

غزل
دلوں میں نفرتیں رکھ کر بھی مسکرانا تھا
منافقت کا بھی انداز مخلصانہ تھا
اس ایک جرم پہ ڈھایا گیا تھا گھر میرا
جو نعرہ لکھا تھا دیوار پہ مٹانا تھا
یہ اور بات کہ موج علم کی نذر ہوئے
ہمارا کام ہوا میں دیے جلانا تھا
یہ جرم ٹھیرا کے ہم نے دعائیں مانگی تھیں
خلاف مرضئی قاتل نہ لب ہلانا تھا
سلی ہوئی تھی زباں اور بندھے ہوئے تھے قدم
مزاج شہر کا ہر چند باغیانہ تھا
عداوتوں میں تھے پنہاں عجیب سے رشتے
حریف جاں جو بنا یار وہ پرانا تھا
جو ایک حرف صداقت زبان سے نکلا
ادھر تھا ناصر تنہا ادھر زمانہ تھا
(شعیب ناصر)

غزل
دل کے ویرانے میں جب تک تیری تصویر نہ تھی
تھی تو وحشت مجھے پر ایسی ہمہ گیر نہ تھی
ہم نے بھی کار جنوں کو نئے تیور بخشے
دولت عشق تو فرہاد کی جاگیر نہ تھی
تیرے وحشی نے ترے نام کو حرمت بخشی
صفحۂ دل پہ نمایاں کوئی تحریر نہ تھی
ہم نے کل خواب میں دیکھا کہ سمندر رویا
خواب یہ ایسا تھا جس کی کوئی تعبیر نہ تھی
میں بھی تھا قیس کے ہمراہ سر دشت طلب
ہاں مرے شوق جنوں کی کوئی تشہیر نہ تھی
مختصر یہ کہ محبت ہے ہمارا مسلک
جرات شوق وفا کی کوئی تفسیر نہ تھی
کون سا دن تھا میں آزاد نہیں تھا ناصر
کون سا دن تھا مرے پاؤں میں زنجیر نہ تھی
(شعیب ناصر )

غزل
جس نے میرے ساتھ رہنے کا سدا وعدہ کیا
میں اکیلا ڈوبتا تھا وہ مجھے دیکھا کیا
کچھ دیئے الزام مجھ کو دوستوں نے اور کچھ
میری خاموشی نے مجھ کو اور بھی رسوا کیا
کیا خبر اس کو محبت کی کشش ہوتی ہے کیا
برف کے باٹوں سے جو جنس وفا تولا کیا
قطرے قطرے کو ترستے رہ گئے صحرا کے لب
اور بادل جاکے دریا پر مگر برسا کیا
نہ کوئی سقراط نہ شبیر نہ منصور ہے
تو نے کیسے دور میں یارب مجھے پیدا کیا
نفرتیں جس کے لئے اپنوں سے تم نے مول لیں
آج ناصرؔ بزم میں اس نے تمہیں رسوا کیا
(شعیب ناصر )

غزل
میں سو رہا تھا مگر سامنے نظارے تھے
جو خواب دیکھ رہا تھا وہ سب تمہارے تھے
وہ زندگی کا مری آج بھی اثاثہ ہیں
تمہارے ساتھ شب و روز جو گزارے تھے
ہمیں تو یاد ہے اب تک تمہاری چاہت میں
وہ ایک کھیل جو ہم جیت کر بھی ہارے تھے
خود اپنے آپ کو تنہا کبھی نہیں سمجھا
ہمارے پاس تری یاد کے سہارے تھے
فلک سے تم کو اتارا گیا تھا دنیا میں
خدا نے چاند ستارے کہاں اتارے تھے
میں تیرے عشق کے گرداب سے نہ بچ پایا
مرے نصیب میں ساحل تھے نہ کنارے تھے
غزل میں کیسے مضامین آگئے ناصر
کہاں گئے جو محبت کے استعارے تھے
(شعیب ناصر )

